اردو یونیورسٹی میں 15 روزہ آزادی 70‘ یاد کرو قربانی تقاریب کا تقسیمِ انعامات کے ساتھ اختتام،ڈاکٹرشکیل احمدکاخطاب
حیدرآباد،23اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) اعلیٰ تعلیمی اداروں کو جب بھی کسی پروگرام کے انعقاد کی ہدایت دیتی ہے تو امید کرتی ہے کہ یہ ادارے پروگرام کا انعقاد کریں گے ۔ لیکن بسا اوقات ایسا نہیں ہوتا۔ کئی اداروں کو بار بار یاد دہانی کی جاتی ہے کہ وہ پروگرام کریں اور اپنی رپورٹ روانہ کریں۔ لیکن جب سے میں یہاں (اردو یونیورسٹی) آیا ہوں مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ وزارت انسانی وسائل ہو یا یونیورسٹی گرانٹس کمیشن دونوں کی ہدایات کو اُردو یونیورسٹی میں نہ صرف پورا کیا جاتا ہے بلکہ اس کی رپورٹ بھی روانہ کی جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر شکیل احمد، رجسٹرار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے آج ’’آزادی 70 یاد کرو قربانی ‘‘ کے 15 روزہ پروگرامس کی اختتامی تقریب میں بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی اسی کو حاصل ہوتی ہے جو اپنے دائرے سے آگے نکل کر زائد کام کرتا ہے۔ اس لیے طلبہ کو چاہئے کہ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ زائد نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے دوستوں کو بھی زائد نصابی سرگرمیوں کی تحریک دلائیں تاکہ ان کی مخفی صلاحیتوں کو جلا ملے۔ ابتداء میں ڈاکٹر محمد فریاد، کو آرڈینیٹر پروگرام نے 15 روزہ تقاریب کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے بطور خاص این ایس ایس والینٹرس کی ستائش کی اور کہا کہ ان کی درخواست پر والینٹرس نے رات 2 بجے تک بھی مختلف امور انجام دیئے۔ جناب انیس احسن اعظمی، سینئر کنسلٹنٹ ، مرکز برائے اردو، زبان، ادب و ثقافت مرکز نے کہا کہ اردو یونیورسٹی کے طلبہ میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں مواقع فراہم کیے جائیں۔ یونیورسٹی اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ طلبہ کو زیادہ سے زیادہ مواقع حاصل ہوں۔ اس موقع پر کمیٹی کے اراکین ڈاکٹر محمد یوسف خان، ڈاکٹر محمد مشاہد، ڈاکٹر اسرار اعالم، جناب وسیم پٹھان، جناب بھکشاپتی نے بھی خطاب کیا۔ اس کے علاوہ طلبہ نے بھی اپنے تاثرات پیش کی۔ اس موقع پر 15 روزہ جشن کے دوران مختلف مقابلوں میں جو حب الوطنی کے موضوع پر منعقد کیے گئے ،نمایاں مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔ 12؍ اگست کو منعقدہ سرحد پر تعینات جوانوں کے لیے گریٹنگ کارڈس مقابلے منعقد ہوئے۔ ان میں پہلا انعام شیخ شریفہ بی (تعلیم و تربیت) کو حاصل ہوا۔ دوسرا نعام آفرین سلطانہ (انگریزی)، تسنیم کوثر (تعلیم و تربیت) کو حاصل ہوا۔ ریشما بیگم (تعلیم و تربیت) نے تیسرا انعام حاصل کیا۔ جبکہ تحیت کلثوم (ایم سی جے) اور محمد اقبال بزمی (سی ایس و آئی ٹی) کو ترغیبی انعامات حاصل ہوئے۔ اسی طرح پوسٹر سازی مقابلے میں محمد ثاقب دبیر (پالی ٹیکنیک) کو انعام اول، محمد ندیم انصاری (پالی ٹیکنیک) کو انعام دوم ، رومانہ بیگم (تعلیم و تربیت) کو انعام سوم اور سلیم انصاری (پالی ٹیکنیک)و توفیق احمد (آئی ٹی آئی) کو ترغیبی انعامات حاصل ہوئے۔ 15 ؍ اگست کو ’’دوڑ برائے آزادی‘‘ منعقد کی گئی جس میں سینکڑوں طلبہ نے حصہ لیا۔ 17؍ اگست کو حب الوطنی کے موضوع پر 3 زبانوں میں نعرہ نویسی مقابلہ منعقد ہوا۔ اردو میں جملہ 45 طلبہ نے حصہ لیا اس میں انعام اول محمد نقیب اکبر (تعلیم و تربیت)، دوسرا انعام محمد ثاقب فردوسی (تعلیم و تربیت) اور تیسرا انعام تحیت کلثوم (ایم سی جے) کو حاصل ہوا۔ انگریزی میں 27طلبہ نے حصہ لیا۔ اس میں ابو طلحہ (تعلیم و تربیت) کو پہلا، شیخ شریفہ بی (تعلیم و تربیت) کو دوسرا اور اسامہ نسیم (تعلیم و تربیت) تیسرا اور محمد حکمت اللہ خان (پالی ٹیکنیک) کو ترغیبی انعام حاصل ہوا۔ ہندی میں جملہ 35 طلبہ نے حصہ لیا۔ انعام اول دانش اقبال (تعلیم و تربیت) اور دوسرا انعام محمد نقیب اکبر (تعلیم و تربیت) کو حاصل ہوا۔ تلگو میں جملہ 5 طلبہ نے حصہ لیا۔ جس میں شیخ صدام حسین (تعلیم و تربیت) کو انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔18؍ اگست کو مضمون نویسی کے مقابلے منعقد ہوئے۔ اردو میں پہلا انعام محمد شاہد ربانی (تعلیم وتربیت) ، دوسرا انعام رفاقت علی (تعلیم و تربیت) اور تیسرا انعام فاطمہ قرۃ العین زفا (ترجمہ) اور طارق اسد اعظمی (رابطہ کورس)نے حاصل کیا۔ مضمون نویسی انگریزی میں پہلا انعام نوفل (انگریزی)، دوسران انعام محمد علی کے (انگریزی) اور تیسرا انعام ابو طلحہ (تعلیم و تربیت) نے حاصل کیا۔ مضمون نویسی ہندی میں پہلا انعام محمد ابو بکر (تعلیم و تربیت)،د وسرا انعام ناہید پروین (پالی ٹیکنیک) تیسرا انعام محمد توفیق ندیم (پالی ٹیکنیک) کو ملا۔ 19 ؍ اگست کو حب الوطنی گیتوں کا مقابلہ منعقد کیا گیا۔ سولو مقابلوں میں پہلا انعام رخسارانجم (ایم سی جے)، دوسرا ثاقب ذکی رحمانی (تعلیم و تربیت) اور تیسراانعام محمد سلطان (سی ایس اینڈ آئی ٹی) اور ترغیبی انعام حسین محمد اختر اعظم و سرفراز عالم کو حاصل ہوا۔گروپ مقابلوں میں پہلا انعام شیخ عبداللہ اور ساتھی، دوسرا انعام مدیحہ اورساتھی اورتیسراانعام ثاقب اختراورساتھیوں کوملا۔ 22؍ اگست کو آنند راج ورما کا خصوصی لکچر منعقد کیا گیا۔ آج صبح اجتماعی طورپرتمام طلبہ نے قومی ترانہ پیش کیا۔